افضل ہزاروی ۔۔۔ اُڑتے اُڑتے شام ہوئی تو گھر لوٹے … अफ़ज़ल हज़ारवी

اُڑتے اُڑتے شام ہوئی تو گھر لوٹے
روشنی جب تمام ہوئی تو گھر لوٹے

رسوائی کا دیکھا خواب تو آنکھ کھلی
عزت جب نیلام ہوئی تو گھر لوٹے

دھیرے دھیرے یاد آیا گھر کا رستہ
دھیرے دھیرے شام ہوئی تو گھر لوٹے
نام کمانے گھر سے نکلے تھے لیکن
قسمت جب ناکام ہوئی تو گھر لوٹے

سوچا تھا بِک جائیں گے ہم بھی افضل
ہستی جب بے دام ہوئی تو گھر لوٹے

۔۔۔

حیرت کے امکان بناتا رہتا ہوں
کچھ منظر ویران بناتا رہتا ہوں

کوئی تو ان میں پھول سجانے آئے گا
سارا دن گلدان بناتا رہتا ہوں

پتھر جیسے خواب سجاؤں آنکھوں میں
مٹی کے ارمان بناتا رہتا ہوں

ادنیٰ سا اک شاعر ہوں میں لاکھوں میں
اپنی اک پہچان بناتا رہتا ہوں
بن جاتی ہے جب اس کی تصویر تو پھر
ہونٹوں پر مسکان بناتا رہتا ہوں

گاؤں کی جب بھی یاد ستاتی ہے افضل
کھیت ، شجر ، دہقان بناتا رہتا ہوں

Related posts

Leave a Comment